تاریخِ اسلام کے اہم ترین دفاعی معرکوں میں سے ایک
غزوہ خندق، جسے غزوہ احزاب (متحدہ فوجوں کا معرکہ) بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کے وہ عظیم معرکے ہیں جس میں مسلمانوں نے ایک نہایت ہی جدید اور غیر روایتی حربے کے ذریعے دشمن کی طاقتور فوج کو شکست دی۔ یہ جنگ 5 ہجری (627 عیسوی) میں مدینہ منورہ کے مقام پر پیش آئی۔ اس جنگ کی اہمیت یہ ہے کہ اگر مسلمان اس میں ناکام ہو جاتے تو مدینہ کی اسلامی ریاست کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس کاغذ (پیپر) کا مقصد غزوہ خندق کے اسباب، واقعات، نتائج اور مسلمانوں کے لیے اس سے ملنے والے اسباق کا تجزیہ کرنا ہے۔
محاصرے کے دوران، مدینہ کے اندر موجود یہودی قبیلہ بنو قریظہ نے (جو مسلمانوں کے معاہدے میں تھے) قریش کی طرف جھک کر معاہدہ توڑ دیا۔ اس سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت کمزور ہو گئی، کیونکہ اب دشمن اندر اور باہر دونوں طرف سے خطرہ بن گیا۔ منافقین (عبداللہ بن ابی کی قیادت میں) نے بھی ہمت ہار دی اور مسلمانوں کو واپس جانے کا مشورہ دیا۔
غزوہ خندق: ایک تجزیاتی مطالعہ (جنگ احزاب کے پس منظر، واقعات اور اثرات کا جائزہ)
[آپ کا نام] کلاس/عہدہ: [جماعت یا عہدہ] تاریخ: [آج کی تاریخ] صفحہ اول: تعارف (Page 1: Introduction)